میں اپنے والد محترام کے ساتھ دودھ کی دوکان پر بیٹھتا تھا۔ھماری دوکان پر کافی عیسایَ یعنی [ کرسیچن ]** بحی دودوھ لینے آتے تھے۔**

اور ان لوگوں کے برتن میں دودھ ڈالینے کے وقت بھی بھت احتیاط کرتا تھا۔دودھ ڈیلنے ویلا ڈونگا عیسایَ  کے برتن سے نھیں لگے۔

دوسرے لفظوں میں اْن کو پلید ،گندا خیال کرتا تھا۔ میں بچھ تھا زیادھ سمجھ نھیں تھی۔ پاکی نا پاکی کو نھیں سمجھتا تھا ۔بس جو دیکھا ۔

بس جیسا دیکھا تھا ویسا کرتا تھا۔