/ احمدی

سانحہ ربوہ کی عدالتی رپورٹ شائع کیوں نہیں ہوتی؟

از محمد متین خالد

پاکستان میں قادیانی جماعت کا مرکز ضلع چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے پار “ربوہ” (اب چناب نگر) کے نام سے آباد ہے۔ یہ جگہ فیصل آباد اور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔ گورنر پنجاب سرفرانسس موڈی واضح طور پر قادیانیوں کی طرف جھکائو رکھتا تھا۔ سابق وزیر خارجہ سرظفر اللہ خاں کی سفارش پر ربوہ کی 1033 ایکڑ زمین (ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے) قادیانیوں کو 100 سالہ لیز پر دی گئی۔ یہ جگہ ان کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ قادیانی ریاست کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے وقت انہوں نے تمام اہم ممکنہ پہلوئوں کو پوری طرح مدنگاہ رکھا تھا۔ 20 ستمبر 1948ءکو اس شہر کا افتتاح قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے کیا۔ قادیانی قیادت نے حکومت سے لیز پر لی گئی اس اراضی کو ہزاروں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں میں تقسیم کرکے اربوں روپے کمائے۔ ربوہ میں 1974ءسے پہلے کوئی مسلمان داخل نہ ہوسکتا تھا۔ اب بھی اگر کوئی مسلمان ربوہ شہر میں داخل ہوتو اس کے پیچھے قادیانی سی آئی ڈی لگ جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پوچھ گچھ ہوتی ہے بلکہ اس کی تمام حرکات و سکنات کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ربوہ ایک ایسا واحد شہر ہے جہاں کوئی مسلمان اپنا مکان خرید سکتا ہے اور نہ وہاں قادیانیوں کی اجازت کے بغیر رات قیام کرسکتا ہے۔ حیرت ہے کہ جب کوئی قادیانی اسلام قبول کرتا ہے تو اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے کے بعد اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی حق حاصل نہیں کہ وہ پوری زندگی کی جمع پونجی سے بنائے گئے اپنے مکان کو فروخت کرسکے، کیونکہ وہاں کی ساری زمین قادیانی انجمن کے نام رجسٹرڈ ہے۔

سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 29 مئی 1974ءکو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی قیادت کے ایما پر بے پناہ تشدد کیا گیا جب وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کے بعد واپس ملتان جا رہے تھے۔ ان طلبہ کا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے 22مئی کو پشاور جاتے ہوئے ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی لٹریچر لینے سے انکار کیا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ اس کی پاداش میں، واپسی پر ان کی گاڑی خلاف ضابطہ روک کر طلبہ پر ظلم و تشدد کا ہر نیا طریقہ آزمایا گیا جس سے 30 طلبہ شدید زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کا پورے ملک میں زبردست ردعمل ہوا۔ دینی جماعتوں کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں میں ہڑتالوں اور پرُجوش مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اُن کے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ چنانچہ 30 جون 1974ءکو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک قرارداد پیش کی۔

31 مئی 1974ءکو وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی پر مشتمل یک رکنی ٹربیونل کا اعلان کیا۔ حکومت پنجاب کے مقرر کردہ ٹربیونل کے دائرہ کار میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ اور اس سے متعلقہ دوسرے معاملات کی تحقیقات کے بعد یہ بتائے گا کہ اس سانحہ کی انفرادی اور اجتماعی طور پر ذمہ داری کن پر عائد ہوتی ہے۔ ٹربیونل مجرموں کے خلاف مناسب کاروائی کی سفارش بھی کرے گا اور اپنی رپورٹ جتنی جلدی ممکن ہوگا، پیش کرے گا۔ پنجاب حکومت کے ایک ہینڈ آئوٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی معائنہ ٹیم کے رکن مسٹر خضر حیات، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مسٹر عبدالستار نجم اور جناب کمال مصطفی بخاری اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تحقیقات کے سلسلہ میں ٹربیونل کی معاونت کریں گے۔

یکم جون 1974ءکو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے امن و امان قائم رکھیں۔ تمام شہریوں کو صمدانی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ رپورٹ موصول ہونے پر شائع کر دی جائے گی۔جسٹس کے ایم اے صمدانی نے تحقیقاتی ٹربیونل کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد فوری طور پر اس سانحہ کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اس سلسلہ میں وقوعہ کے روز ڈیوٹی پر متعین ریلوے اسٹیشن کے عملے اور میڈیکل کالج کے طلبہ اور سٹاف وغیرہ کو نوٹس بھیجے گئے کہ وہ آ کر اپنے بیان ریکارڈ کروائیں۔ اس کے علاوہ عام افراد سے بھی کہا گیا کہ و ہ اپنا بیان زبانی یا تحریری طور پر ٹربیونل کے روبرو پیش کر سکتے ہیں۔ عدالت میں ہائی کورٹ بار کے درج ذیل ارکان، مختلف تنظیموں کی وکالت کے لیے موجود تھے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے مسٹر ایم انور اور ایم اے رحمان ایڈووکیٹ، مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ، قادیانی محاسبہ کمیٹی اور پاکستان اتحاد پارٹی کی طرف رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن وکلا کی رابطہ کمیٹی کی طرف سے محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور چوہدری نذیر احمد خاں ایڈووکیٹ، حکومت پنجاب کی طرف سے مسٹر کمال مصطفی بخاری اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور قادیانی جماعت کی طرف سے اعجاز حسین بٹالوی ایڈووکیٹ اور مسٹر بشیر احمد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

سب سے پہلے 8 جون کو جناب ایکسپریس کے گارڈ نذیر احمد خاں کا بیان ریکارڈ ہوا جس میں اس نے کہا کہ واقعہ کے روز ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر حملہ کرنے والے شر پسندوں کی تعداد 500 کے قریب تھی۔ وہ چمڑے کی پیٹیوں، آہنی پائپوں، ہنٹروں، لاٹھیوں اور ہاکیوں سے مسلح تھے۔ وہ نہتے طلبہ پر وحشیانہ تشدد کر رہے تھے اور انہیں کان پکڑنے اور معافی مانگنے پر مجبور کر رہے تھے جبکہ طلبہ بچائو بچائو کاشور کر رہے تھے۔ پلیٹ فارم پر ہر طرف خون ہی خون تھا۔ فاضل عدالت کے استفسار پر گواہ نے بتایا کہ قادیانی شر پسندوں کی ایک کثیر تعداد احمدیت زندہ باد، محمدیت مردہ باد اورمرزا غلام احمد کی جے کے نعرے لگا رہی تھی جبکہ برقع پوش نوجوان لڑکیاں تالیاں بجا کر حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کر رہیں تھیں۔ گواہ نمبر 4 صدیق احمد اسپیشل ٹکٹ ایگزایمنر نے ٹربیونل کے روبرو اپنی شہادت قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ حملہ آور ایک طالب علم محمد حسن محمود پر شدید تشدد کر رہے تھے جس کے جسم پر سوائے قمیض کے کوئی کپڑا نہ تھا۔ وہ زخموں سے بری طرح چور ہوکر رو رہا تھا۔ اُس کے سر، کان اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اُس کے دانت ٹوٹ چکے ہیں۔ایک حملہ آور نے اسے کہا کہ کیا تم مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہو، طالب علم نے جواب دیا نہیں، اس پر اسے ہنٹروں سے مارا گیا جس پر وہ نیم بیہوش ہو گیا اُس نے پانی مانگا تو ان حملہ آوروں میں سے ایک نے کہا کہ اس کے منہ میں پیشاپ کرو۔ ٹربیونل کے روبرو اس دلدوز اور غیر انسانی واقعہ کی کئی چشم دید گواہوں نے تصدیق کی۔ گواہ کے اس بیان پر عدالت میں موجود ہر شخص قادیانیوں کے اس غیر انسانی رویے پر رنج و غم میں ڈوب گیا۔ 16 جون کو سٹیشن ماسٹر ربوہ مرزا عبدالسمیع قادیانی نے اپنے بیان پر جرح کے دوران اعتراف کیا کہ قادیانی جماعت کا ایک تبلیغی مشن اسرائیل کے شہر حیفہ میں بھی کام کر رہا ہے۔ ایک طالب علم ارباب عالم نے اپنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ ہمیں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی لٹریچر نہ لینے پر شدید زدو کوب کیا۔ قادیانی حملہ آور لاٹھیوں، ہاکیوں، ہنٹروں اور ریوالوروں سے مسلح تھے۔ ہماری علیحدہ بوگی تھی۔ ہر طالب علم کو آٹھ آٹھ، دس دس غنڈوں نے جی بھر کر مارا۔ ایک طالب علم، رفعت حیات بیمار تھا جو برتھ پر لیٹا ہوا تھا۔ حملہ آوروں نے اسے گاڑی سے نیچے پھینکا اور اسے ننگاکرنے کی کوشش کی۔ تمام طالب علموں پر خوف طاری تھا۔ جب ہم لائل پور (فیصل آباد) اسٹیشن پہنچے تو ضلعی حکام سٹیشن پر موجود تھے۔ 30 طالب علم شدید زخمی تھے۔ انہیں سٹریچر پر ڈال کر برآمدہ میں لایا گیا۔ وہاں طالب علموں کو فرسٹ ایڈ دی گئی۔ پلیٹ فارم پر کئی ڈاکٹر طلبہ کے علاج و معالجہ کے لیے موجود تھے۔ جن میں ایک معروف قادیانی ڈاکٹر ولی بھی تھا، طلبہ نے اس سے علاج کروانے سے انکارکر دیا جس پر حکام نے انہیں واپس بھیج دیا۔

ایک سابق قادیانی صالح نور نے ٹربیونل کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے قادیانیوں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ربوہ میں جوشخص قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرتا ہے۔ اسے بیوی، بچوں اور مکان سے محروم کر کے ربوہ سے زبردستی نکال دیا جاتا ہے۔ سوشل بائیکاٹ کے ذریعے ان کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔ مخالفت پر اسے قتل کر دیا جاتا ہے جس کامقدمہ بھی درج نہیں ہوتا۔ ٹربیونل کے روبرو روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ تحریک ختم نبوت کو سبوتاژ کرنے کے لیے حکومت نے کئی منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جن میں ایک فرضی تنظیم “انجمن فدایان رسول” کی طرف سے فرضی اور غیر اخلاقی اشتہار کی اشاعت بھی ہے، جسے میں نے اپنے روزنامہ میں شائع کرنے سے روک دیا۔ حالانکہ اس اشتہار کی اشاعت سے ادارے کو 4 ہزار روپے (آج کے لاکھوں روپے)ملتے۔ لیکن میں نے دینی غیرت و حمیت میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ہفت روزہ چٹان کے مدیر آغا شورش کاشمیری نے بھی ٹربیونل میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور نہایت اہم انکشافات کیے۔ 18 جون 1974ءکو ٹربیونل کے روبرو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر گواہ نمبر 48کے طور پر پیش ہوا۔ اس نے جسٹس کے ایم اے صمدانی کے ایک سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ وہ مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ سانحہ ربوہ کے بارے میں پوچھے گئے کئی سوالوں کے جواب میں مرزا ناصر نے غلط بیانی سے کام لیا جس پر جسٹس صمدانی نے اپنی شدید حیرت کا اظہار کیا۔

20 جولائی 1974ءکو جسٹس صمدانی ربوہ (چناب نگر) گئے تاکہ جائے وقوعہ کا معائنہ کر سکیں۔ فاضل تحقیقاتی جج کے ہمراہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفی بخاری اور دوسرے وکلاءمسٹر اعجاز بٹالوی، مسٹر ایم اے رحمن، مسٹر عاصم جعفری، مسٹر خاقان بابر، مسٹر فرخ امین اور مسٹر ایم۔ڈی طاہر تھے۔ جسٹس صمدانی نے صبح 7:55 پر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے کے فوراً بعد سٹیشن کی جنوب مشرقی سمت میں پلیٹ فارم کے اس مقام کا معائنہ کیا جہاں محلہ دارالرحمت کی جانب سے حملہ آوروں نے نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کی بوگی پر حملہ کیا تھا، جو پلیٹ فارم سے کم و بیش 50گز پیچھے روک لی گئی تھی۔ بعد ازاں تحقیقاتی جج نے ریلوے اسٹیشن سے قریباً ڈیڑھ فرلانگ دور چوہدری ظفر اللہ خاں کی کوٹھی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ٹربیونل کے روبرو بعض گواہوں نے بیان دیا تھا کہ اِس کوٹھی میں موجود بعض افراد نے حملہ کی ترغیب دی تھی۔ بعد ازاں ٹربیونل نے جامع نصرت ڈگری کالج کے ریلوے اسٹیشن کی جانب کھلنے والے گیٹ کامعائنہ کیا جس کے بارے میں سماعت کے دوران ٹربیونل کو بتایا گیا تھا کہ اس گیٹ کے قریب مرزا منصور جیپ پر کھڑے حملہ آوروں کو نشتر کالج کے طلباءپر حملہ کے لیے اشتعال دلا رہے تھے۔ اس موقع پر جو خاص باتیں دیکھنے میں آئیں، وہ نہایت چشم کشا ہیں:

جسٹس صمدانی کی آمد پر ائیر مارشل ظفر چودھری قادیانی کی قیادت میں سرگودھا ائیر بیس سے اڑنے والے پاک فضائیہ کے 3 طیارے گھن گرج کے ساتھ فضا میں نمودار ہوئے، انہوں نے انتہائی نیچی پرواز کی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ نجانے وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ ربوہ شہر میں تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ البتہ قائد اعظم محمد علی جناح￧ اور علامہ اقبال￧ کی تصویر کہیں بھی آویزاں نہ تھی۔ ربوہ میں کہیں بھی پاکستان کا پرچم نظر نہ آیا۔ اس کے برعکس قصر خلافت پر قادیانی جماعت کا اپنا مخصوص جھنڈا “لوائے احمدیت” لہرا رہا تھا۔ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ) کے دفتر کے معائنہ کے دوران جب ریکارڈ اور فائلیں دیکھی گئیں تو بتلایا گیا کہ اختلافات وغیرہ کی صورت میں آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے۔ ٹربیونل نے ربوہ کی پولیس چوکی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں کسی جرم کی رپورٹ یا ایف آئی آر درج نہیں۔ اس موقعہ پر تھانہ “لالیاں” کے ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ ہمارا نظام محکمہ “ربوہ” کا مرہون منت ہے۔ ہم بوجوہ اپنے طور پر کچھ نہیں کرسکتے۔ ربوہ کی بیشتر عمارات پر قادیانی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ ربوہ شہر کی دیواروں پر “غلام احمد کی جے”، احمدیت زندہ باد اور God is coming by His army ایسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد جسٹس صمدانی نے قادیانیوں کی نام نہاد جنت اور دوزخ دیکھی۔ یہ دراصل دو قبرستان ہیں۔ عرفِ عام میں چار دیواری کے اندر واقع قبرستان کو جنت اور باہر عام قبرستان کو دوزخ کہا جاتا ہے۔ جو قادیانی اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا 20 فیصد قادیانی جماعت کو دینے کی وصیت کرے، وہ قادیانی “جنت” میں دفن ہوتا ہے اور جو قادیانی ایسی کوئی وصیت نہ کرے، وہ “دوزخ” میں دفن ہوتا ہے۔ جب جسٹس صمدانی قادیانی خلیفہ مرزا محمود اور نصرت بیگم کی قبروں پر گئے تو ان پر لگے ہوئے کتبہ پر لکھی ہوئی درج ذیل عبارت دیکھ کر بے حد حیران ہوئے:

“ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی مرزا بشیر الدین محمود”، “جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے، حضرت ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) اور دوسرے اہل بیت (مرزا قادیانی کے گھر والے) کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے کر جا کر دفن کریں ، چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندانِ حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے ، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔”

صحافیوں نے جسٹس صمدانی سے کہا کہ مرزا محمود کی وفات کے وقت بھی قادیانی اس کی لاش قادیان لے جاسکتے تھے۔ اس سلسلے میں قادیانی قیادت اگر درخواست کرتی تو بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتیں بخوشی اس کی اجازت دے دیتیں۔ لیکن یہ میتوں کا موزوں وقت پر قادیان لے جانا، چہ معنی دارد؟ اس “موزوں وقت” سے کیا مراد ہوسکتی ہے۔ جسٹس صاحب کو بتایا گیا کہ اس کی بنیاد مرزا محمود کے وہ بیانات ہیں جو قادیانی روزنامہ “الفضل” میں شائع ہوئے تھے: مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا: “ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے، اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہوکر رہیں تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحدہوں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے، ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہوجائے۔” (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ءصفحہ 3)

قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے مزید کہا: “میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے، لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے، بسا اوقات عضو مائوف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور اگر پھر یہ معلوم ہوجائے کہ اس مائوف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائے۔” (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ءصفحہ 2)

اسی طرح قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: “اللہ تعالیٰ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو تباہ کر دے گا۔ آپ بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوگیا ہے۔” (ہفت روزہ چٹان 16 اگست 1984ء جلد 39 شمارہ 31)

یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانی آزادی سے پہلے پاکستان کے کھلے دشمن تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی وہ اس کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی بھیانک سازشوں کے بین ثبوت ہیں۔ اس سے بڑی غداری اور بغاوت اور کیا ہو سکتی ہے۔ انھیں پڑھنے کے بعد ہر محب وطن پاکستانی کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ ہر قادیانی سب سے پہلے اپنی جماعت اور خلیفہ کا وفادار ہے، بعد میں کسی اور کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں تاکہ یہ جلد ختم ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے اور یوں ان کے خلیفہ کا خواب پورا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے پاک فوج کو قادیانیوں سے پاک کیا جائے کیونکہ وہ جہاد کے منکر ہیں جبکہ جہاد ہماری فوج کا موٹو ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج میں شامل قادیانی کیا کردار ادا کریں گے؟ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں گے یا اپنے خلیفہ کا؟ قادیانی بتائیں کہ کیا مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان سے غداری ہے یا حب الوطنی؟؟

ربوہ باقاعدہ ایک قادیانی سٹیٹ ہے۔ وہاں ایوان صدر کے مقابلہ میں ایوان محمود، وزارت کے مقابلہ میں نظارت اور وزیر کے مقابلہ میں ناظر ہے۔ قادیانی ریاست میں قائم چند نظارتوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ نظارت علیا یعنی امور اعلیٰ، نظارت امور عامہ، نظارت امور خارجہ، نظارت اصلاح و ارشاد، نظارت دیوان، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت ضیافت، نظارت صنعت و تجارت، نظارت زراعت، نظارت حفاظت مرکز، محکمہ قضا (عدالت)۔ ہر نظارت کے امور کی نگرانی متعلقہ ناظر کے ذمہ ہوتی ہے۔ ناظران کے اختیارات و فرائض اور ان کے تقرر اور برخاست کا آخری اختیار قادیانی خلیفہ کے پاس ہوتا ہے۔ ان سب نظارتوں میں تین بہت اہم نظارتیں ہیں جن کے سربراہوں (ناظر) کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ ناظر اعلیٰ جسے قادیانی ریاست کا وزیراعظم بھی کہا جاتا ہے، کے پاس تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہوتی ہے اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ (کابینہ) کے درمیان واسطہ ہوتاہے۔قادیانی خلیفہ عموماً، ناظر اعلیٰ اس شخص کو مقرر کرتا ہے جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو اور وہ خلیفہ کے ہر جائز اور ناجائز حکم پر سرتسلیم خم کرے۔ ناظر امورعامہ کو عموماً وزیر داخلہ کہا جاتا ہے جس کے ذمہ امن و امان، فوجداری مقدمات، سزائوں پر عملدرآمد، پولیس، حکومت اور پریس سے روابط قائم کرنا ہے۔ ناظر امورِ خارجہ کو عموماً وزیر خاجہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ اندرون ملک اور بیرون ممالک خلیفہ ربوہ کی تبلیغی، سیاسی اور جوڑ توڑ کی کارروائیوں کے معاملات طے کرنا ہے۔

قادیانیوں نے اپنے سیاسی غلبہ کے لیے جو منصوبہ تشکیل دیا ہے، اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وہ جس طرح اپنے آپ کو منظم کیے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ جس پیمانے پر کثیر سرمایہ خرچ کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس گروہ نے ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست قائم کررکھی ہے جس سے حکومت کی رِٹ بھی چیلنج ہوتی ہے۔ قادیانیوں کی یہ ریاست بظاہر غیر مرئی ہے مگر حقیقتاً بڑی طاقتور ہے۔ اس ریاست کی تنظیم اور اس کے کام کی ٹیکنیک یہودیوں کی عالمی تنظیم “فری میسن” سے ملتی جلتی ہے۔ قادیانیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو سات بڑی تنظیموں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ دراصل ربوہ کی غیر مرئی ریاست کے سات بڑے محکمے ہیں۔

(1) صدر انجمن احمدیہ ربوہ، (2) تحریک جدید، (3) وقف جدید، (4) انصار اللہ، (5) لجنۃ اماءاللہ، (6) اطفال الاحمدیہ و ناصرات الاحمدیہ، (7) خدام الاحمدیہ: یہ قادیانیوں کی سب سے اہم تنظیم ہے۔ جس کا دائرہ کار قصرِ ربوہ سے اعلیٰ حکومتی حلقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی کمان براہِ راست قادیانی خلیفہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو اپنے حکم پر ناظر امور عامہ کے ذریعے عمل کرواتا ہے۔ یہ تنظیم چناب نگر (ربوہ) میں دہشت کی علامت ہے۔ قادیان اور ربوہ میں خلافتی نظام کی کامیابی کے لیے یہ تنظیم طاقت کے استعمال سے کام لیتی ہے۔ اس تنظیم کے اراکین ہر وقت جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں۔ روزانہ صبح باقاعدگی سے فوجی انداز میں پریڈ کرکے اپنے آپ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں، کوڈ ورڈز (Code Words) میں اپنے خفیہ پیغامات ایک دوسرے کو منتقل کرتے ہیں۔ اس تنظیم میں شامل نوجوانوں کو کمانڈوز کی طرز پر فائٹنگ، نشانہ بازی اور تشدد کے جدید گر سکھائے جاتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ دراصل فرقان بٹالین (قادیانی فوجیوں کی ایک جداگانہ تنظیم) کو توڑنے کے بعد قائم کی گئی اور بٹالین کے تمام فوجی خدام الاحمدیہ میں آگئے۔ اس کے علاوہ ربوہ سے قادیانیوں کے کئی ایک اخبارات و رسائل باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جن میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلا جاتا ہے۔ قادیانیوں کے اس تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ صرف “امت کے اندر امت” ہی کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ مذہبی لبادے میں ریاست کے اندر ریاست عملاً قائم کیے ہوئے ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین اور قومی اور ملکی وسائل کے بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال ایک ارب روپے سے زائد صرف کر رہا ہے۔

سانحہ ربوہ ٹربیونل نے 70 کے قریب اہم افراد کی شہادتیں قلمبند کیں۔ بعض لوگوں نے بذریعہ ڈاک اپنے تحریری بیانات ارسال کیے۔ 3 اگست 1974ءکو سانحہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل نے اپنی سماعت مکمل کر لی اور اعلان کیا کہ ٹربیونل 15 سے 20 اگست تک حکومت کو یہ رپورٹ پیش کر دے گا۔چنانچہ 20 اگست 1974ءکو جسٹس صمدانی نے پنجاب سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے سے ملاقات کی اور انہیں سانحہ ربوہ سے متعلق 112صفحات پر مشتمل رپورٹ کی 3 مصدقہ کاپیاں پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے جسٹس صمدانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹربیونل کی سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کرے گی اور یہ رپورٹ جلد شائع کی جائے گی۔ 23 اگست 1974ءکو وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے یہ رپورٹ وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اسلام آباد میں پیش کی۔ افسوس یہ ہے کہ صمدانی ٹربیونل رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا گیا اور نہ ہی اس رپورٹ کو آج تک شائع کیا گیا ￲ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مضمون کے آخر میں آغا شورش کاشمیری کے درج ذیل 38 سالہ پرانے مطالبے کے ساتھ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو جلد ازجلد شائع کیا جائے۔

“ہمیں ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی رپورٹوں کے متعلق تلخ تجربہ ہے کہ جب ان کے مندرجات حکومتی مصلحتوں کے منافی ہوتے ہیں تو انہیں شائع نہیں کیا جاتا۔ یہ حوصلہ صرف انگریز ہی میں تھا کہ جب وہ کسی مسئلہ سے متعلق تحقیقاتی کمیشن قائم کرتا تو اس کی رپورٹ ضرور شائع کی جاتی۔ ہماری قومی حکومتوں نے شروع سے اب تک اس بارے میں عمدہ روایت قائم نہیں کی۔ واقعہ ربوہ سے ظاہر ہے کہ اس میں حکومت ملوث نہیں۔ الف اور ب کی تکرار ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس رپورٹ کو من و عن شائع کر دے تاکہ لوگ جان سکیں کہ جس واقعہ نے سارے ملک میں اس عظیم مسئلہ کو اٹھا دیا ہے، اس کی روداد کیا ہے؟ چونکہ ہائی کورٹ کے فاضل جج پر ہر جماعت کو اعتماد ہے۔ اس سے سبھی حلقے اپنے متعلق اس سانحہ کی کتھا سننے کے لیے تیار ہیں۔ امید ہے کہ ہماری درخواست قبول کی جائے گی”۔ (ہفت روزہ چٹان لاہور 26 اگست 1947ء