وہ نواز شریف جو پاکستانی طالبان کے حملوں پر خاموش ہے، وہ اے آر وائی پر دہشت گردی کا مقدمہ بنا کر ایک مذاق بن گیا ہے۔ بلکہ ایک خطرہ بن گیا ہے۔ نواز شریف کی کی دہشت کے بارے میں امریکی منطق سے  ملک کو آج خطرہ ہے۔
اے آر وائی روز ہندوستان کے سرحدی حملوں کے بارے میں بتا رہا ہے، اور نواز شریف روز ہندوستان سے دوستی کی باتیں کر رہے ہیں۔
میں نے چند روز پہلے بیگم کو کہا کہ صدر زرداری کے پانچ سال میں کسی صحافی کو قید نہیں کیا گا، اور کسی سیاسی مخالف کو جیل نہیں بھیجا کیا۔ آگے دیکھیے۔ اور ابھی شریف برادران کے دو مہینے ہوئے ہیں، اور وہی آمریت اور کاروباری ذہنیت سامنے آ گئی۔

حکومت کہہ رہی ہے کہ اے آر وائی نے قائد اعظم کی زیارت پر طالبان کے حملے کو دکھا کر دہشت گردی کی ہے اور اس پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کر دیا ہے ۔

نواز شریف کے پہلے دور میں نہ تو میڈیا آزاد تھا اور نہ انٹرنیٹ رائج تھی اس لیے ان کو شائد اندازہ ہی نہیں کہ یہ کیسی مذموم حرکت ہے۔

دوسری بات جو آج سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی طالبان، افغان طالبان کی بات نہیں ہو رہی، نواز شریف اور جماعت اسلامی کے حلیف ہیں اور ان کے پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے۔ ان کو پتہ ہے پاکستانی عوام جب قائد اعظم کی زیارت پر طالبان کا حملہ دیکھیں گے تو ان کو پاکستانی طالبان کی حب الوطنی اور اسلامی جوش کی حقیقت کھل کر پتہ چل جائے گی۔