![](http://www.munawarhasan.com/images/picture.jpg)جماعت ِاسلامی کے امیر جناب سءد م[نور حسن صاحب نے پاکستان کی سیاست کے چند امور پر رائے زنی کرتے ہوئے امیر لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے کی بات ](http://www.munawarhasan.com/news/news_detail/MTUw)کر کے جماعتِ اسلامی کو اس کے اصلی نہج کی طرف لانے کی ایک خوش آئیند کوشش کی ہے۔
ہم نے چند روز پہلے اکبر چودھری نے [تکفیر کے رد میں اپنے مضمون](http://www.qern.org/en/blog/akber/takfeer-saturated-business-model) میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ آیا  وہ دن ہماری زندگی میں  آئے گا کہ ہم ایک عالمِ دین کو کسی امیر آدمی کے خلاف اس کی بدعنوانی اور رشوت ستانی کی وجہ سے محاذ آرائی کرتے دیکھیں گے۔  ہماری یہ خواہش ابھی تو پوری نہیں ہوئی مگر یہ موجودہ قدم سے ہماری امید قائم ہے اور انشاء اللہ اپنی عمر میں ہم اس کو دیکھ لیں گے۔
حکومت مسلمان کی ہو یا ہندو کی یا عیسائی کی، اگر وہ اپنی عوام کو یہ تین چیزیں فراہم کرے تو وہ  خدا داد سلطان ک کا حق ادا کر رہی ہے: انصاف اور کمزوروں اور مسکینوں کے لیے کم از کم فلاح اور ریاست کی بیرونی طاقتوں سے حفاظت۔  آجکل کے دور میں بیرونی طاقتوں سے حفاظت فوجی بھی ہے اور معاشی بھی۔
گذشتہ تیس سال سے ہماری مذہبی جماعتیں اقتدار کو صرف کرسی سمجھتی رہی ہیں اور اقتدار کی اخلاقی اور عقلی بنیادوں پرزیادہ توجہ نہیں کر سکیں۔ یعنی کہ  کرسی پر بیٹھنے والا  بدل جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر انسانی تمدن کی حقیقت یہ ہے کہ  بنیادی  اخلاق اور ان اخلاق کے بنیادی فلسفہ  کے خمیر سے قوموں کی ٹھوس بنیاد پڑتی ہے۔
اگر لا قانونیت اور بد عنوانی دیمک کی طرح  قوم کی عمارت کی دیواروں کو کھا جائے گی تو چند سینما گھروں کو بند کرانے سے قوم بچ نہیں سکتی۔جب انسانی اقدار نہیں ہوں گی تو مذہبی اقدار کو لاگو کروانے کا موقع ہی نہیں آئے گا۔  یعنی وہ قوم تو کسی دوسری  قوم کی غلامی میں ہو گی، تو پھر دین کے باریک نقاط کی بحث کہاں؟
اسلامی اقدار اور مخصوص قوانین ضروری ہیں مگر ان سے پہلے انسانی تمدن کے بنیادی اصولوں کو مضبوط کرنا ہے، یعنی کہ انصاف، فلاح اور دشمن سے حفاظت، اور ہم خوش قسمت ہیں کہ دینِ اسلام  ان بنیادی اصولوں کا علمبردار  ہے۔