Posted On

### (از قاری عبد الوحید قاسمی) ادارہ قرن کا تمام آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔  اور اس حالیہ ماجرے میں سفیر حسین حقانی کے قصور کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ کہانی صرف اعجاز منصور صاحب کی ہے۔

اس سے قبل بھی وہ کئی بار خطوط کے ڈرامے کر چکا ہے۔ سب سے پہلے اس کا تعارف ملاحظہ فرمائیں کہ وہ کس مذہب اور فتنے سے تعلق رکھتا ہے ان کے خمیر میں اسلام ،پاکستان، افواج پاکستان اور عقیدہ ختم نبوت کے خلاف سازشیں کرنا شامل ہے۔ اب اعجاز منصور کا میمو کوئی نئی بات یا سازش نہیں ہے اس نے صرف انداز تبدیل کیا ہے۔

اعجاز منصور کا مذہبی پس منظر : یہ دونوں نجیب الطرفین قادیانی ہے۔ اس کاوالد ڈاکٹر مجدد اعجاز اور اس کا والد اسماعیل اعجاز بھی سکہ بند کٹر قادیانی ہے جبکہ اس کے سوتیلے والد چوہدری محمد شریف سابقہ وزیر خارجہ معروف قادیانی ظفر اللہ کے فرسٹ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ خود بھی قادیانیوں کے سرکردہ رہنماتھے۔ اس کی والدہ ڈاکٹرلبنٰی رضیہ کے والد نذیر حسین خان کے بارے میں ان کی والدہ کا کہنا ہے وہ غلام قادیانی کے 313مقرب صحابہ میں شمار تھے۔ (معاذاللہ)

منصور اعجاز جو کہ1995ءمیں پہلی مرتبہ اخبارات کے صفحات کے توسط سے منظر عام پر آئے تھے۔ اس کے والد اور والدہ دونوں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے وابستہ رہے لیکن وہاں باقاعدہ ملازم نہیں تھے۔ پھر دونوں امریکہ چلے گئے۔ اس خاندان کی امریکہ میں اتنی جلدی مالی پوزیشن کا اختیار کرنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ بقول ان کی والدہ ڈاکٹر لبنٰی رضیہ کے مطابق ابتدائی دنوں صرف ایک وقت کے کھانے پر اکتفا کرتے تھے۔اب وہ امریکہ کا صدر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس وجہ سے کہ امریکی سیاست کے جادو گروں یعنی امریکی یہود یوں کے ساتھ قریبی مراسم پر منصور اعجاز بطور فخر کہتے ہیں کہ 15سال سے وال سٹریٹ میں اس لیے اتنی بڑی کاروباری کمپنی کے ساتھ موجود ہوں میرے امریکی یہودیوں کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔ اس وجہ سے اس نے پاکستان پر دبائو ڈالا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے اس کے تین بڑے فوائدہیں : (۱) پاکستا ن کے عالمی قرضے معاف ہو جائیں گے (۲) فوجی اور خفیہ کاری کی منصوبہ بندی بہتر ہو جائے گی (۳) امریکی یہودیوں سے اچھے تعلقات پیدا ہو جائیں گے۔ اس نے یہودیوں کو مسلمانوں کا کزن قرار دیا انہیں عیسائیوں سے زیادہ قابل قبول قرار دیا جس پر اس کے بعد اسی منصور اعجاز کو 14نومبر 1995کو ایک یہودی تنظیم انڈائو منٹ فار ڈیموکریسی نے اس کی خدمات کے اعتراف میں نیو یارک پلازہ ہوٹل میں ایک استقبالیہ کا انتظام کیا ۔ جس میں اس کو یہودی تنظیم کی طرف سے ہزرائی ھائی نس پرنس مصور منصور اعجاز کے نام سے موسوم کیا گیا۔

کچھ عرصہ یہ خاموش رہا بلکہ نئی سازشوں کی صف بندی کرتا رہا ۔1997ءمیں پھر اچانک آرکناس ڈیموکریٹ گزڑ29اپریل1997ءکے واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے دو مضامین کی وجہ سے خبروں کی زینت اور موضوع بن گیا (۱) منصور اعجاز کوقابل فخر امریکی کے طور پر متعارف کرایا گیا جس نے اپنے والدین کے ملک پاکستان سے ایٹمی راز چرا لئے تھے اور اس میں لکھا کہ ان رازوں تک منصور کی رسائی اپنے والدین کے پرانے کلاس فیلو اورا ساتذہ کے ذریعہ ہوئی جو ان دنوں پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں اہم ذمہ داریوں پر تھے (ڈاکٹر عبد السلام قادیانی اور دوسرے قادیانی حضرات اور ان رازوں کی چوری کا اعتراف کرتے ہوئے کیا تھا کہ یہ میرے اطلاعات کی قوت بھی تھی کہ جس نے پالیسی سازوں کے دروازے مجھ پر وار کر دیئے اس کی طرح اس کی والدہ بھی اس سے دو ہاتھ زیادہ مکار ہے صدر مشرف کے دور میں ان دونوں کا ان سے خصوصی رابطہ تھا اور یہ وزیر بننے کے چکر میں تھا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ مگر اس کی والدہ مشرف کی گود میں تھی (یہ حساس اداروں کی غفلت تھی کہ اس سے چشم پوشی کرتے تھے اب منصور کومشیر برائے سرمایہ کاری بنانے کی بھر پور کوشش کی مگر یہاں بھی ناکام ہوئی۔ مگر اس کی والدہ کے مراسم مشرف سے بہت گہرے تھے اس کے لئے کوشش ہوئی اور کچھ حد تک کامیاب بھی ہو چکی تھی کہ مشرف کو مرچ مصالحہ لگا کر کہا کہ جیسے امریکہ میں سلیکان ویلی (جو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی صنعتوں پر مشتمل ہے ایسے ہی طرز پر پاکستان خصوصاً اسلام آباد میںہائی ٹیک ٹائون کی تجویز دی۔ اور تین اداروں NISTاورCTIکا کنٹرول میرے حوالے کریں۔ اور اسلام آباد کے ہائی ٹیک انڈسٹریزکے لیے مختص سیکٹر آئی 12اسے الاٹ کر دیا جائے وہ اس سلسلہ میں ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب پیدا کر دے گی اور 100ملین ڈالر کی سر مایہ کاری خود کر ے گی 200صنعتوں کے لیے سرمایہ کاری کا بندو بست بھی کرے گی۔اس کے بعد ڈاکٹر لبنٰی رضیہ کو بطور مشیر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا تقرر نامہ جاری ہونے والا تھا کہ اس قادیانی کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا گیا اس کا حوالہ اس لیے لکھا گیا کہ یہ پور ا خاندان ہی سازشی ٹولہ ہے اب منصور کے سابقہ خطوط کا حال بھی ملاحظہ فرمائیں جیسے آج کل ایک امریکہ سے لے کے پاکستان تک کے تمام ادارے اعجاز منصور میمو پر بحث کر رہے ہیںکہ حقائ
ق کیا ہیں حقائق تو تحقیق کے بعد سامنے آئیں گے مگر اس کے سابقہ خطوط کو مد نظر رکھیں تو اس کھیل کو سمجھنا ذرا آسان ہو جائے گا۔

ستمبر 2000کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے پاکستان کو باہر رکھنے کے لیے 100ملین ڈالرکی کمانڈر صلاح الدین کو پیشکش کی اور کہا کہ صدر کلنٹن نے آ پ پر اعتماد کیا ہے ہم آپ کوکشمیر کا یاسر عرفات بنانا چاہتے ہیں اس خط پر آپ دستخط کر دیں۔اس کی وجہ سے یقینی پائیدار حل نکال لیا جائے گا ۔ پھر خالد خواجہ کے ساتھ یہ منصور اعجاز 24اگست کو مظفر آبادمیں ان کے آفس میں جا گھستا ہے۔6گھنٹے طویل ملاقات کرتا ہے۔ اور بہت ساری پیشکش کی آخر سید صلاح الدین صاحب اس کی چالوں کو سمجھ گئے اور خط کا مسودہ ان کے سامنے پھینک دیا اور کہا کہ آپ ہمارے کیسے ہمدرد ہیں کہ ہمارے سر پر ستوں کے خلاف ہمیں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ منصور اور اسکا ٹولہ خالد خواجہ دوسرے اسلامیجماعت کے اہم ذمے دار مایوس واپس لوٹے مگر سازشیں جاری رہیں اور اعجاز منصور بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے سری نگر جا پہنچا اور وہاں جا کر حزب المجاہدین کے دو گروہ کر دئیے ایک کمانڈر عبدالمجید ڈار دوسرا کمانڈر صلاح الدین گروپ یہ بھی قادیانی سازش تھی اس لیے کہ مسئلہ کشمیر کے مجرم اعظم قادیانی ہی اس مسئلہ کی حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں یہ قادیانی لابی ہی ہے خواہ وہ پاکستانی قادیانی ہوں یا برطانوی امریکی ان کی پالیسی ایک ہی ہے۔ مگر وہ ڈرامہ بھی ناکام ہوا جو فوج اور حکومت پاکستان اور کشمیری مجاہدین کے خلاف تھا آخر کار اسے ناکام و نا مراد واپس کلنٹن کے پاس جانا پڑا۔

پھر نئے انداز میں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف :بے نظیر بھٹو کے دور میں اکتوبر 1995ءکو نیویارک کے پلازے ہوٹل میں بے نظیر بھٹو کو پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ احمد کمال نے اعجاز منصور کا تعارف کروایا جو اعجاز منصور کا دوست تھا۔

منصور اعجاز کا دعویٰ تھا کہ اس نے 29جون 1995ءکو بے نظیر بھٹو کے نام ایک خط لکھ کر اسے آگاہ کیا تھا کہ اس وقت کے ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ میجر جنرل علی قلی خان آپ کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہا ہے۔ اورساتھ ہی ایک اور دعویٰ کیا کہ یہ خط اس نے بے نظیر بھٹو کو ان کے مشیر ظفر جمالی کے توسط سے بھجوایا تھا۔ اس احسان کی وجہ سے بے نظیر نے اس کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی تھی۔ اس دوران اس نے پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ پاکستان کی براؤن ترمیم کی منظوری کے لیے 58 سینٹروں کی حمایت مل چکی ہے صرف دو سینٹروں کو خرید نا ہے۔ اس کے لئے پاکستان ایک کروڑ پچیس لاکھ ڈالر کے لیے تیار ہو جائے اس پر بے نظیر نے کہا کہ پاکستانی بیٹھا ہے اور اپنے ملک سے اتنی رقم مانگ رہا ہے تو اس نے جواب میں کہاکہ اگر یہ رقم نہیں ادا کر سکتے تو پھر اس کے لیے آپ ان سینڑوں کو راضی کرنے کے لیے تین مطالبات تسلیم کر لیں پھر بغیر پیسوں کے کام بن جائے گا۔

(۱) اسرائیل کو تسلیم کر لیں

(۲) قانون توہین رسالت کو ختم کر دیں

(۳) قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے والی آئینی ترمیم حذف کر دی جائے۔

بے نظیر بھٹو سیاستدان تھی اس نے انکار کر دیا بے نظیر کا دعویٰ تھا کہ اس کے ساتھ منصوراعجاز کا تعارف صدر لغاری نے کر ایا تھا۔ جس کابرادر نسبتی ڈاکٹر زبیر منصور کا دوست تھا اور منصور نے اپنی ملاقات کا تعارف ظفر جمالی کو قرار دیا ہے ۔ بے نظیر نے ایک دفعہ کہا کہ جب میں نے اس کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو اس نے میری حکومت کے خاتمہ کی دھمکیاں دی تھی۔ یہ تھی اس کے خطوط کی حقیقت ۔قادیانیوں نے ابھی تک ملک پاکستان تسلیم ہی نہیں کیا ۔ طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

اس طرح ایک اور سازش خطوط کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں:

سابق سکواڈرن لیڈر اور آئی ایس آئی کے سابق آفیسر خالد خواجہ جس کواپریل 2010 کے آخر میں شمالی وزیرستان میںسر اور سینے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا ۔ یہ بھی اعجاز منصور اور اس کی والدہ ڈاکٹر لبنیٰ رضیہ کا قریبی دوست تھا اس نے کراچی کمپنی اسلام آباد کے کمانڈر سید صلاح الدین کے دفتر سے لے کر مظفر آباد حزب المجاہدین کے دفتر پھر وہاں سے افغانستان تک منصور اعجاز کی رہنمائی کی تھی اپنے انٹر ویو میں اس نے ایک اور خط کا ذکر کیا ۔

خالد خواجہ کے انٹرویو کے مطابق اعجاز منصور کو اس وقت کے افغان سفیر ملا ضعیف سے ملاقات کرائی ملا ضعیف گھر میں تھے وہاں پر انکا لیڑ پیڈ نہیں تھا اور لکھنے والاٹائپسٹ بھی نہیں تھا اور لکھنا بھی انگریزی میں تھا تو اس وقت اعجاز منصور نے خود ایک لیٹر گراف کیا اس پر لکھا کہ اس میں ایک لفظ لکھا ہے کہ ہم نائن الیون کی مذمت کرتے ہیں جب یہ تحریر اور خط اوکے ہوا اور لیٹرپیڈ بھی اعجاز منصور نے بنایا اس پر طالبان کا پرانا جھنڈا بنایا اور اس لیڑ پر ملاں ضعیف کے دستخط ہوگئے اس کے بعد اعجاز منصور نے فون کیا کہ امریکی حکومت کو پیغام مل گیا ہے۔

اس خط کے دو دن بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ ان تمام خطوط کو اگر دیکھا جائے تو ان سب خطوط میں ایک بات قدرِ مشترک ہے کہ ان خطوط میں افواج پاکستان کے خلاف خطرناک سازشیں ہیں مجاہدین کشمیر کا خط ملاحظہ فرمایا ہے ۔بے نظیر بھٹو کو جو خط لکھا ،میجر جنرل علی قلی خان کا طالبان کو جو خط تھا تو یہ اعجاز منصور اور اس کی سازشی خطوط کی کہان
ی کا فی پرانی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جس فرقہ سے اسکا تعلق ہے جو اس کو مکمل سپوٹ کرتے ہیں قادیانی فرقہ یہ روز اول ہی سے انگریز کے ایجنٹ اور ان کے جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں مگر افسوس کہ امریکہ ، برطانیہ میں ہر دور کے سفراءان کو وی آئی پی پروٹوکول دیتے ہیں اور انکی سازشوں میں ان کے دست بازو بنتے ہیں یہ پاکستان کے ازلی دشمن ہیں اس وقت کا اعجاز منصور کا سازشی خط جس میں افواج پاکستان اور آئی ایس آئی جو کہ ایک قومی ادارہ ہے اس کو دہشت گرد قرار دینے کی بات کرنا یہ ملک کے خلاف بغاوت ہے۔

تمام پاکستانی اور کشمیری قوم مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فی الفور اسکی اعلی سطح کی تحقیقات کرائے تمام مجرموں پر غدار ی کے مقدمے درج کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور فی الفور اعجاز منصوراور اس کی والدہ کی پاکستانی شہریت کو ختم کیا جائے اس پر مقدمہ کر کے انٹر پول کے ذریعہ پاکستان لا کر قرار واقعی سزا دی جائے تانکہ آئندہ کے لیے یہ سلسلہ ختم ہو۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)